ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے باغی امیدوار بنے دردِسر۔شمالی کینرا کے6حلقے ہونگے متاثر

کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے باغی امیدوار بنے دردِسر۔شمالی کینرا کے6حلقے ہونگے متاثر

Sun, 06 May 2018 11:38:29    S.O. News Service

کاروار6؍مئی (ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی انتخاب کے لئے پولنگ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آتی جارہی ہے ، بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لئے باغی امیدوار دردِسر بنتے جارہے ہیں۔دونوں پارٹیوں کے سینئر قائدین نے آخری لمحوں تک کوشش کی کہ ان کے باضابطہ امیدوار کے خلاف انہی کی پارٹی سے کوئی باغی امیدوار میدان میں نہ اترے۔مگر باغی امیدوار وں نے اپنے لیڈروں کی بات نہیں مانی، جس کی وجہ سے ضلع کے چھ حلقوں میں بھی پارٹی کے باضابطہ امیدوار کی جیت متاثر ہونے کے آثار پوری طرح ظاہر ہورہے ہیں۔کیونکہ خود پارٹی کارکنان میں سے ہی کچھ لوگ باغی امیدواروں کی حمایت اور باضابطہ امیدواروں کی مخالفت میں نعرے بازی کرنے اور تشہیری مہم چلانے کی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔اس وجہ سے سیاسی پارٹیاں اس مخمصے میں پڑگئی ہیں کہ نہ جانے کون کس کے حق میں پولنگ کربیٹھے۔ اس طرح یہ مسئلہ ان پارٹیوں کے لئے راکھ میں دبی ہوئی آگ کی طرح سامنے آیا ہے۔

ضلع کے بھٹکل، کمٹہ، کاروار، سرسی،یلاپور اورہلیال حلقوں میں زیادہ تر بی جے پی کے امیدواروں کے تعلق سے ہی پارٹی کارکنان میں اختلا ف اور باغی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔کمٹہ حلقے میں باغی امیدوار نے بی جے پی کے باضابطہ امیدوار کی نیندیں حرام کرکے رکھ دی ہیں۔خیال رہے کہ ٹکٹ کی آس لگائے بیٹھے سورج نائک سونی نے بی جے پی سے دینکر شیٹی کو امیدوار بنائے جانے پر بغاوت کردی ہے۔امیدواری واپس لینے کے لئے پارٹی کی طرف سے دی گئی واضح ہدایت کو سورج نائک نے یکسر مسترد کردیا ہے۔جس کے بعد اسے پارٹی سے خارج کردیا گیا، لیکن اس کی بغاوت کی وجہ سے پارٹی کے امیدوار کی جیت پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے اور یہ پارٹی کے لئے تشویش کی بات ہے۔

اسی طرح کانگریس سے پارٹی سے بھی کرشنا گوڈا باغی امیدوار کی صورت میں میدان میں اترے ہیں۔ لیکن پارٹی نے ابھی تک ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی ہے۔کرشنا گوڈاانتخابی نتیجے پر اثرا نداز ہونے والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے کی طرف سے سمجھانے بجھانے کے بعد بھی انہوں نے اپنی نامزدگی واپس نہیں لی ہے۔اس سے یہاں کانگریسی امیدوار کے لئے مسائل کا سامنا ہے۔

اس سے ہٹ کر حالات کا جائزہ لیں تو دونوں پارٹیوں میں کھلے عام بغاوت کرنے والوں کے علاوہ بظاہرپارٹی میں رہتے ہیوئے خفیہ طور پر پارٹی امیدوار کی جیت کے امکانات کو کم کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں۔یہ چیز بھٹکل، کمٹہ ، کاروار ، سرسی۔ہلیال اور یلاپور حلقوں میں صاف محسوس کی جارہی ہے۔ کاروار میں کانگریسی امیدوار کے خلاف پارٹی کے کچھ لیڈران اندرونی طور پر کام کرتے ہوئے پیٹھ میں چھراگھونپنے کاکام کررہے ہیں۔ اس لئے کاروار میں کانگریس کے لئے سب کچھ ٹھیک ہے والا معاملہ نہیں ہے۔ایسا ہی کچھ حال یہاں بی جے پی کا بھی ہے۔

بھٹکل میں بی جے پی کے باضابطہ امیدوار کے خلاف بھی کچھ گروہ متحرک ہیں۔پارٹی کے لیڈروں کے اندر ہی موجودہ امیدوار کے تعلق سے اتفاق رائے نہیں ہے۔اور ایسا لگتا ہے کہ اس رکاوٹ کو دور کرنا آسان نہیں ہے۔یہی حال کانگریسی امیدوار کا بھی ہے۔ ذات اور طبقے کی بنیاد پر موجودہ امیدوار کے خلاف محاذ بنانے والے خود کانگریس پارٹی کے اندر موجود ہیں۔جبکہ سرسی کے حلقے میں پارٹی امیدوار کے تعلق سے پارٹی کے بڑے لیڈروں میں ہی اتفاق رائے نہ ہونے کی باتیں سننے میںآرہی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اس مسئلے پر وشویشورکاگیری اور اننت کمار ہیگڈے کے درمیان کارکنان دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔

اسی طرح یلاپور میں بھی بی جے پی کے اندر ہی پارٹی امیدوار کے خلاف بغاوت ابھری ہے۔امیدوار کو منتخب کرنے کے سلسلے میں لیڈروں کے درمیان عدم اتفاق کواس کا سبب بتایاجارہا ہے۔ اور اس کا اثر بی جے پی امیدوار کی جیت پڑنا لازمی دکھائی دے رہا ہے۔جبکہ ہلیال میں بی جے پی امیدوار کے خلاف اندرونی طور پر کچھ گروہ سرگرم ہونے کی خبریں مل رہی ہیں۔یہاں پارٹی کے لیڈران اور کارکنان بظاہر متحد ہونے اور پارٹی امیدوار کی کامیابی کے لئے کوشش کرنے کی باتیں تو کی جارہی ہیں،لیکن حالات بتارہے ہیں کہ اندر سے جو خفیہ کوشش چل رہی ہے ، اس کا برا اثر پارٹی کے نتیجے پر ضرور پڑے گا۔


Share: